اک اک کر کےہر اک زخم دُہائی دےگا
یہ سفر کچھ نہ سوا آبلہ پائی دےگا
اک ذرا اور بلندی پہ چڑھو پھر دیکھو
رات کو شہر بھی آکاش دکھائی دےگا
بجتےبجتےسبھی اک لمحےمیں تھم جائیں گےساز
پھر یُگوں کچھ بھی کسی کو نہ سنائی دےگا
پیار کےپھول میں ہر دِن نےبھرا اک نیا رنگ
اگلا دِن اب اِسےاک رنگِ جدائی دےگا
آخرش طےکیا ناکردہ کو بھی کر لےقبول
یوں کہاں تک وہ بھلا روز صفائی دے
وہ کئی نوری برس دور تھا، یہ کیا تھی خبر!
میرےکاندھوں پہ رکھےہاتھ دکھائی دےگا
۔۔۔
ناصر کاظمی کی یاد میں
ہاتھوں میں تھےاس کےہات کچھ دیر
ٹھہری رہی کائنات کچھ دیر
اک لمبی طویل رات کےبعد
اک رات وہ آئی رات کچھ دیر
کرنوں کا جلوس، چاند ڈولی
آنگن میں رہی برات کچھ دیر
کیا ماتھےکا چاند کھِل رہا تھا
بھولےرہےغم کی رات کچھ دیر
اےصحنِ چمن گواہ رہیو
وہ گل رہا میرےساتھ کچھ دیر
پَو پھٹتےہی کیا اُلٹ گئی ہی
بچھتی ہےسدا بساط کچھ دیر
بیٹھو بھی ذرا رقیب پیارے
کرتےرہو اس کی بات کچھ دیر
اک شب تو حسابِ زخم دیکھوں
تھم جائیں جو حادثات کچھ دیر
پہلےیہ بِجوگ کب پڑا تھا
بھولے رہیں غم کی رات کچھ دیر
اپنےکو لئےرہو گےکب تک
ہوتےہیں تکلّفات کچھ دیر
اب آج دنوں پہ شعر کہہ کر
کچھ دل کو ملا ثبات کچھ دیر
۔۔۔
گہری جھیل میں کوئی دائرہ سا ابھرا ہے
سنگ ریزہ پھر کوئی یاد نےاچھالا ہے
شب کی برف باری کی برف اب پگھلتی ہے
جو بدن میں زندہ تھا، وہ پرندہ ٹھٹھرا ہے
باغ، پھول، پتّی، کھیت، چاند، آسماں، تارے
یوں تو کتنےساتھی ہیں، دل مگر اکیلا ہے
ریت کا ہر اک ذرّہ کس جگہ سمندر ہے
جنگلوں کو کیا معلوم، کتنی دور صحرا ہے
پیڑ کا وہ تنہا سا برگِ سبز ٹوٹےگا
جانےوالےموسم کا آخری اشارہ ہے
۔۔۔
غزلوں میں چاندنی کےمدھر سر چھپا لۓ
ہم نےہوا کےہونٹوں سےنغمےچرا لۓ
آخر گزر ہی جائےگی اس طرح رات بھی
کاغذ کو یوں ہی موڑئی، کچھ شےاچھالۓ
میں تو بھٹک رہا ہوں، پھر آو¿ں گا اس جگہ
کیوں راہ رو رہی ہےمرا نقشِ پا لۓ
سورج کو ساری رات بھی میں پا نہیں سکا
میں ڈھونڈھتا تھا ہاتھوں میں جلتا دیا لۓ
پہلےہی کوئی چھین چکا مسکراہٹیں
اس چور سےخزانہءمژگاں سنبھالۓ
۔۔۔
سینہءساز میں چپ چاپ اترتےہم بھی
ڈولتی ڈوبتی سرگم میں ابھرتےہم بھی
تیز آندھی کا اشارہ بھی اگر مل جاتا
زرد پتوّں سےفضاو¿ ں میں بکھرتےہم بھی
ہم سےگر ایک کرن بھی کبھی ٹکرا جاتی
اگلےپل آئینہ صورت سےنکھرتےہم بھی
کسی ننھےسےکھلونےسےبہل جاتےہم
چند بےمعنی سےالفاظ سےڈرتےہم بھی
تیرتےرہتےیوں ہی سارےحبابی خیمی
سطحِ آب سےاس طرح گزرتےہم بھی
۔۔۔
رات پھر رات ہے، یہ ظلم بھی کر سکتی ہے
ذہن میں خوابوں کی تصویر بکھر سکتی ہے
تیز رفتارہوا آندھی کی صورت کیوں ہے
یہ اگر چاہےتو خاموش گزر سکتی ہے
رات کےہاتھ میں ہیں چاند ستارےپھر بھی
راستہ خوف کےذرّات سےبھر سکتی ہے
جلتی پیشانیوں پر سجدےکےداغ ابھرےہیں
یہ عبادت ہمیں مایوس بھی کر سکتی ہے
رنگ ہوں آنکھوں میں، سج جاتےہیں منظر سارے
طبع خوش ہو تو ہر اک چیز سنور سکتی ہے
--
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں
اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں
دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں
عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ
میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں
شاید اس بار اس سے ملاقات ہو
بارے اب سچےّ دل سے دعا مانگ لوں
یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں
اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں
اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں
اپنے رب سے صداۓ رسا مانگ لوں
جمع کرتا ہوں میں ظلم کی آیتیں
کس کے سر سے گری ہے ردا، مانگ لوں
یہ سفر کچھ نہ سوا آبلہ پائی دےگا
اک ذرا اور بلندی پہ چڑھو پھر دیکھو
رات کو شہر بھی آکاش دکھائی دےگا
بجتےبجتےسبھی اک لمحےمیں تھم جائیں گےساز
پھر یُگوں کچھ بھی کسی کو نہ سنائی دےگا
پیار کےپھول میں ہر دِن نےبھرا اک نیا رنگ
اگلا دِن اب اِسےاک رنگِ جدائی دےگا
آخرش طےکیا ناکردہ کو بھی کر لےقبول
یوں کہاں تک وہ بھلا روز صفائی دے
وہ کئی نوری برس دور تھا، یہ کیا تھی خبر!
میرےکاندھوں پہ رکھےہاتھ دکھائی دےگا
۔۔۔
ناصر کاظمی کی یاد میں
ہاتھوں میں تھےاس کےہات کچھ دیر
ٹھہری رہی کائنات کچھ دیر
اک لمبی طویل رات کےبعد
اک رات وہ آئی رات کچھ دیر
کرنوں کا جلوس، چاند ڈولی
آنگن میں رہی برات کچھ دیر
کیا ماتھےکا چاند کھِل رہا تھا
بھولےرہےغم کی رات کچھ دیر
اےصحنِ چمن گواہ رہیو
وہ گل رہا میرےساتھ کچھ دیر
پَو پھٹتےہی کیا اُلٹ گئی ہی
بچھتی ہےسدا بساط کچھ دیر
بیٹھو بھی ذرا رقیب پیارے
کرتےرہو اس کی بات کچھ دیر
اک شب تو حسابِ زخم دیکھوں
تھم جائیں جو حادثات کچھ دیر
پہلےیہ بِجوگ کب پڑا تھا
بھولے رہیں غم کی رات کچھ دیر
اپنےکو لئےرہو گےکب تک
ہوتےہیں تکلّفات کچھ دیر
اب آج دنوں پہ شعر کہہ کر
کچھ دل کو ملا ثبات کچھ دیر
۔۔۔
گہری جھیل میں کوئی دائرہ سا ابھرا ہے
سنگ ریزہ پھر کوئی یاد نےاچھالا ہے
شب کی برف باری کی برف اب پگھلتی ہے
جو بدن میں زندہ تھا، وہ پرندہ ٹھٹھرا ہے
باغ، پھول، پتّی، کھیت، چاند، آسماں، تارے
یوں تو کتنےساتھی ہیں، دل مگر اکیلا ہے
ریت کا ہر اک ذرّہ کس جگہ سمندر ہے
جنگلوں کو کیا معلوم، کتنی دور صحرا ہے
پیڑ کا وہ تنہا سا برگِ سبز ٹوٹےگا
جانےوالےموسم کا آخری اشارہ ہے
۔۔۔
غزلوں میں چاندنی کےمدھر سر چھپا لۓ
ہم نےہوا کےہونٹوں سےنغمےچرا لۓ
آخر گزر ہی جائےگی اس طرح رات بھی
کاغذ کو یوں ہی موڑئی، کچھ شےاچھالۓ
میں تو بھٹک رہا ہوں، پھر آو¿ں گا اس جگہ
کیوں راہ رو رہی ہےمرا نقشِ پا لۓ
سورج کو ساری رات بھی میں پا نہیں سکا
میں ڈھونڈھتا تھا ہاتھوں میں جلتا دیا لۓ
پہلےہی کوئی چھین چکا مسکراہٹیں
اس چور سےخزانہءمژگاں سنبھالۓ
۔۔۔
سینہءساز میں چپ چاپ اترتےہم بھی
ڈولتی ڈوبتی سرگم میں ابھرتےہم بھی
تیز آندھی کا اشارہ بھی اگر مل جاتا
زرد پتوّں سےفضاو¿ ں میں بکھرتےہم بھی
ہم سےگر ایک کرن بھی کبھی ٹکرا جاتی
اگلےپل آئینہ صورت سےنکھرتےہم بھی
کسی ننھےسےکھلونےسےبہل جاتےہم
چند بےمعنی سےالفاظ سےڈرتےہم بھی
تیرتےرہتےیوں ہی سارےحبابی خیمی
سطحِ آب سےاس طرح گزرتےہم بھی
۔۔۔
رات پھر رات ہے، یہ ظلم بھی کر سکتی ہے
ذہن میں خوابوں کی تصویر بکھر سکتی ہے
تیز رفتارہوا آندھی کی صورت کیوں ہے
یہ اگر چاہےتو خاموش گزر سکتی ہے
رات کےہاتھ میں ہیں چاند ستارےپھر بھی
راستہ خوف کےذرّات سےبھر سکتی ہے
جلتی پیشانیوں پر سجدےکےداغ ابھرےہیں
یہ عبادت ہمیں مایوس بھی کر سکتی ہے
رنگ ہوں آنکھوں میں، سج جاتےہیں منظر سارے
طبع خوش ہو تو ہر اک چیز سنور سکتی ہے
--
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں
اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں
دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں
عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ
میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں
شاید اس بار اس سے ملاقات ہو
بارے اب سچےّ دل سے دعا مانگ لوں
یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں
اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں
اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں
اپنے رب سے صداۓ رسا مانگ لوں
جمع کرتا ہوں میں ظلم کی آیتیں
کس کے سر سے گری ہے ردا، مانگ لوں

0تبصرہ جات:
Post a Comment
<< واپس: